Trawih ki duwa mai galati

#تراویح_کی_دعا_میں_غلطی- تحریر:- رضوی شاہنواز مصباحی-
 تمام امت مسلمہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ جسم و جسمانیت سے پاک ہے اور تمام عیوب سے منزہ ہے، ہمیں ہر حال میں اس بات کا لحاظ رکھنا چاہئے کہ ہم سے کبھی بھی اللہ تعالی کی شان میں کوئی خامی و کمی سرزد نہ ہو،لیکن بہت سی دفعہ ہم سے(نا معلوم) ہونے کی وجہ سے غلطی سرزد ہوجاتی ہے،اور بہت سی مرتبہ توجہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم اللہ تعالی کی شان میں کوتاہی کر بیٹھتے ہیں-
ایسا ہی معاملہ رمضان شریف میں تراویح کی دعا میں آتا ہے تراویح میں"سبحان ذى الملك والملکوت سبحان ذى العزة والعظمةالى آخر" پڑھی جاتی ہے، اس دعا میں ہم اللہ تعالی کی پاکی اور بڑائی بیان کرتے ہیں ہیں،(وہ اس طرح سے کہ جو ہمیں اس دعا کے ترجمہ سے معلوم ہوتا ہے )
ترجمہ،ً پاک ہے وہ جو ملک اور بادشاہت والا ہے پاک ہے وہ اللہ جو عزت والا ہے اور عظمت والا ہے" لیکن ہم سے سے انجانے میں میں یا توجہ نہ ہونے کی وجہ سے بجائے بڑائی بیان کرنے کے کوتاہی و کمی ہوجاتی ہے ،اور اللہ تعالی کے لیے ہم ایسی بات کہہ دیتے ہیں جو اس کی شان کے قطعى لائق نہیں ہے ،کیونکہ ہم نے اس دعا کے پڑھنے میں غلطی کردی ہوتی ہے اور اس غلطی کرنے میں اچھے پڑھے لکھے بھی توجہ نہ ہونے کی وجہ سے شریک ہوتے ہیں،
اس دعا میں ایک لفظ آیا ہے"والعظمۃ"اس کا معنی ہے-: عظمت،بزرگى٠(القاموس)یہ معنی"ظا" پر زبر پڑھنے کی صورت میں ہے، لیکن ہم نے اگر ظا کو ساکن کر دیا تو اس کے معنی-: ہڈی کا ٹکڑا ہو جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ تعالی سے سے عرض کر رہے ہیں ہیں"پاک ہے وہ ذات جو ہڈی والا ہے"(معاذاللہ)_
خدارا ایسی غلطی کرنے سے خود بھی بچیں اور لوگوں کو بھی بچائیں۔
"ظا" پر زبر بہت ہی احتیاط سے پڑھیں_
 اللہ تعالی ہماری تمام غلطیوں کو معاف فرمائے_
  اسے رمضان آنے سے پہلے تمام لوگوں کو بتائیں تاکہ امت مسلمہ ایسی کوتاہی خامی کرنے سے بچ جائےtrawih ki duwa mai galati ۔



Comments

Popular posts from this blog

History of muslim in India