logo ki nazar mai madarson ki beqadri
#_ہماری_اور_عوام_کی_نگاہ_میں_مدارس_کی_کم_اہمیت_و_بے_قدری_کا_سبب_مفت_تعلیم_.
#اور_اسکا_حل۔
قسط نمبر 1
تحریر:-رضوى شاہنواز مصباحى۔
بتاریخ۔21/اپریل،2020.
اللہ تعالی نے بے شمار مخلوقات کو پیدا فرمایا ہے جن کے نام تک ہم نہیں جانتے اور رب قدیر کى پیدا کردہ مخلوقات میں سے ایک مخلوق انسان بھی ہے جس کو اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے،اللہ تعالی کى اس مخلوق میں بہت سی صفات ہیں جن میں سے کچھ اچھی صفات ہیں، تو کچھ بری بھی ہیں۔
اور اس کی کچھ صفات وہ ہیں جو اس کی فطرت میں ہوتی ہے,جیسے اس کی ایک فطرى عادت یہ ہے کہ جب بهى اس کو کوئی چیز مفت(free) میں ملتی ہے تو وہ اس چیز کی قدر نہیں کرتا,وہ چیز جس کو یہ اپنی محنت اور روپیہ، پیسے سے لیتا ہے اور کماتا ہے اس کی قدر کرتا ہے،اس کا بارہا تجربہ ہر انسان کی زندگی میں داخل ہے-
اس بارے میں میرے بھی بہت سے تجربات ہیں جو میں نے اپنی 12/سال کی مدرسے کی زندگی میں کیے ہیں،کچھ وہ ہیں جو خود میری ذات سے تعلق رکھتے ہیں کچھ وہ ہیں جو دوسروں سے متعلق ہیں-
جب میں نے درس نظامی میں داخلہ لیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس تعلیم میں کئی موضوعات و زبان میں کتابیں پڑھائی جاتی ہیں،جن میں سے کچھ عربی کی ہوتی ہیں تو کچھ فارسی کی اور اردو زبان تو لازمى ہوتی ہے اور انگلش زبان بھی اس میدان میں پیچھے نہیں ہے،ان مدارس میں ایک سے بڑھ کر ایک ماہر انگلش داں استاذ طلباء کو بہت ہی اچھے سے اس زبان کی تعلیم دیتے ہیں اور طلباء ان تمام موضوعات و زبان پر مشتمل کتابوں کو پڑھتے ہیں،لیکن میں نے غور کیا کہ ہم جہاں اردو،عربی،فارسی کی کتابوں پر محنت کرتے تھے اس کے مقابل انگلش پر 20/10% ہی دھیان دیتے تھے اسی حالت میں ,میں نے چار سال گزارے لیکن جب پانچواں سال "درجہ رابعہ" کا آیا تو اس سال کے بھی 7/6 مہینے اسی حالت میں گزرے ،انگلش کے مقابل دیگر زبانوں پر کافی حد تک توجہ دیتا تھا لیکن پھر ایسا ہوا کہ ہمارے ایک دوست اور ہم نے انگلش اسپیکنگ سینٹر ( English speaking centre) پر پڑھنے کے لئے ٹیوشن( Tution)لگا لی، بس جیسے ہی ٹیوشن لگانا تھا اب کیا تھا ایک گھنٹہ ٹیوشن پر پڑھتے ،آدھا گھنٹہ عصر کے بعد بڑھتے اور مغرب بعد بھی آدھا گھنٹہ مفردات (words meaning) رٹتے اور پھر عشاء بعد گیارہ (11) بجے تک کتابوں کی تکرار کرنے کے بعد پھر ایک گھنٹہ ہم اور ہمارے ایک دوست ڈبیٹ(Debate) کرتے-
اس زبان میں اتنی محنت پانچ سال میں نہیں کی تھی جتنی محنت ہم نے ڈیڑھ مہینے میں کی،جہاں ہم سے انگلش دیکھ کر بھی صحیح سے پڑھنی نہیں آتی تھی وہیں ان ڈیڑھ مہینوں میں پڑھنی بھی آ گئی اور ساتھ ہی ساتھ بولنى بھی،اب ہم نے غور کیا کہ اس کی وجہ کیا تھی کہ ہم جو پانچ سال میں نہ کر سکے وہ ہم نے ڈیڑھ مہینے میں کر دکھایا،تو وجہ یہی سامنے نکل کر آئی کے مدرسے میں جو ہمیں تعلیم دی جا رہی تھی وہ مفت تهى،تو ہم محنت نہیں کرتے تھے اور اب جب کہ ہم نے ڈیڑھ مہینہ خود کا روپیہ خرچ کرکے تعلیم حاصل کی تو ہم محنت کرنے لگے-
یہ کہا جا سکتا ہے اس کى وجہ مدرسہ میں ایک تو ماحول نہیں مل پاتا دوسرے اس زبان کى تعلیم پر دهیان نہیں دیا جاتا جس کى وجہ سے اس زبان کے بولنے،پڑهنے پر طلبہ قادر نہیں ہو پاتے،تو ہمارا جواب یہ ہے کہ ہم آپکى بات "بولنے"کے تعلق سے تو تسلیم کر سکتے ہیں لیکن"پڑهنے" کے تعلق سے نہیں کیونکہ پانچ سال میں کم از کم اتنى بھی مدرسہ کی تعلیم کمزور نہیں جو طلبہ کو صرف انگلش پڑهنے(English reading)کے بهى قابل نا بنا سکے۔
اور یہاں پر کوئی صاحب یہ بهى کہہ سکتے ہیں کہ مدرسے میں پانچ سال محنت نہ کرنے کا سبب ہوسکتا ہے کہ دلچسپی نہ رہی ہو،تو میں یہی کہوں گا کہ پہلے پہل جب میں نے غور کیا تو میں بھی یہى سمجھ رہا تھا لیکن جب میں نے خوب غور و فکر کی تو نتیجہ دوسرا نکلا، کیونکہ آج یہ حقیقت سب کے سامنےہے جس کا کوئی بهى انکار نہیں کر سکتا جس سے سبهى آشنا ہے کہ جتنی ترقی موجودہ دور میں انگلش زبان نے کی ہے کہ دنیا کے کونے-کونے میں اس زبان کو سمجها اور جانا جاتا ہے اتنا دیگر کو نہیں اور یہ ایک ایسى لغت ہے جس کے ذریعہ سے ہم اپنى بات پورى دنیا میں پہونچا سکتے ہیں،اب بتائیے کون ہوگا جو اس لغت و زبان میں دلچسپى نہیں رکهیگا حالانکہ ایک دینى درسگاه سے تعلق رکهنے والے کا مقصد ہى ہوتا ہے پورى دنیا میں تبلیغ کرنا۔
چلیے اگر آپ میرى اس بات سے اتفاق نہیں رکهتے تو میں آپ کو چند مثالیں اور دیتا ہوں جن سے عیاں ہوجائے گا کہ حضرت انسان کے نزدیک فرى(free)میں ملى ہوئی شئ کى اہمیت نہیں۔
اور یہ بات بهى واضح رہے کہ"مفت شئ کى بے قدرى"کا یہ قاعده کلیہ نہیں بلکہ اکثریہ ہے،ورنہ ایسى چیز کى قدر کرنے والے بهى آپکو کچھ مل ہى جائیں گے۔
(چلئے اصل موضوع کی طرف چلتے ہیں) آپ اور ہم مدرسے کی زندگی گزارتے ہیں،مدرسے میں ہر چیز ہم کو فری ملتی ہے پڑھائی بھی،رہنا بھی اور ساتھ میں کھانا بھی،لگ بھگ سبھی مدرسوں میں بچوں کو ایک ہى جگہ پر بیٹها کر کهانا کهلایا جاتا ہے، تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ بچے کس طرح سے کھانے کی بربادی کرتے ہیں،میں نے خود اپنے"مادر علمى" کا حال دیکھا ہے کہ بچے کس طرح سے کھانے کا نقصان کرتے ہیں جتنا کھانا پچاس/سو طلباء کا چھوٹے مدرسے میں بنتا ہے اتنا کھانا یہاں پر ایک وقت میں برباد ہو جاتا ہے، میں نے اپنے ساتھ میں کھانے والے طلبہ کا حال دیکھا ہے کہ جتنا ان کا پیٹ نہیں پھر بھی اس سے زیادہ کھانا پلیٹ میں لاتے ہیں،وه خود بھی جانتے ہیں کہ نہیں کھا پائیں گے پهینکنا ہی پڑے گا پھر بھی زیادہ لاتے ہیں اور بچے ہوئے کھانے کو پهینک دیتے ہیں،آخر یہ کیا ہے ؟کیا یہ مفت کا نتیجہ نہیں ہے ؟کیا ہم کبھی اپنے گھروں پر کھانا برباد کرتے ہیں؟ نہیں نہ' تو پھر یہاں پر ایسا کیوں؟_
ہمارے جامعہ کے باہر بہت سے کھانے کے ہوٹل ہیں جہاں سیکڑوں بچے کھانا کھاتے ہیں لیکن میں نے وہاں پر کبھی کسی کو کھانا چھوڑتے یا پہینکتے ہوئے نہیں دیکھا، ایکا دوکا اگر چھوڑتے ہوں گے تو وہ الگ بات ہے۔
جارى۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment